6 اشعار

ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گے

Hum musafir yun hi masroof-e-safar jaayenge

ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گے

«ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گےبے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

کس قدر ہوگا یہاں مہر و وفا کا ماتمہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے

جوہری بند کئے جاتے ہیں بازار سخنہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

نعمت زیست کا یہ قرض چکے گا کیسےلاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں مر جائیں گے

شاید اپنا بھی کوئی بیت حدی خواں بن کرساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے

فیضؔ آتے ہیں رہ عشق میں جو سخت مقامآنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے

— فیض احمد فیض