6 اشعار

ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے

Hum ne sab sher mein sanware the

ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے

«ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

ہم نے سب شعر میں سنوارے تھےہم سے جتنے سخن تمہارے تھے

رنگ و خوشبو کے حسن و خوبی کےتم سے تھے جتنے استعارے تھے

تیرے قول و قرار سے پہلےاپنے کچھ اور بھی سہارے تھے

جب وہ لعل و گہر حساب کیےجو ترے غم نے دل پہ وارے تھے

میرے دامن میں آ گرے سارےجتنے طشت فلک میں تارے تھے

عمر جاوید کی دعا کرتےفیضؔ اتنے وہ کب ہمارے تھے

— فیض احمد فیض