7 اشعار

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے

Hum par tumhari chah ka ilzam hi to hai

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے

«ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہےدشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے

کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیںشوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے

دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہےاے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہےلمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

دست فلک میں گردش تقدیر تو نہیںدست فلک میں گردش ایام ہی تو ہے

آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفاوہ یار خوش خصال سر بام ہی تو ہے

بھیگی ہے رات فیضؔ غزل ابتدا کرووقت سرود درد کا ہنگام ہی تو ہے

— فیض احمد فیض