5 اشعار

ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی

Humein se apni nawa hum-kalaam hoti rahi

ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی

«ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہییہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی

مقابل صف اعدا جسے کیا آغازوہ جنگ اپنے ہی دل میں تمام ہوتی رہی

کوئی مسیحا نہ ایفائے عہد کو پہنچابہت تلاش پس قتل عام ہوتی رہی

یہ برہمن کا کرم وہ عطائے شیخ حرمکبھی حیات کبھی مے حرام ہوتی رہی

جو کچھ بھی بن نہ پڑا فیضؔ لٹ کے یاروں سےتو رہزنوں سے دعا و سلام ہوتی رہی

— فیض احمد فیض