6 اشعار

کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے

Kuch muhtasibon ki khalwat mein kuch waiz ke ghar jaati hai

کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے

«کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہےہم بادہ کشوں کے حصے کی اب جام میں کم تر جاتی ہے

یوں عرض و طلب سے کم اے دل پتھر دل پانی ہوتے ہیںتم لاکھ رضا کی خو ڈالو کب خوئے ستم گر جاتی ہے

بیداد گروں کی بستی ہے یاں داد کہاں خیرات کہاںسر پھوڑتی پھرتی ہے ناداں فریاد جو در در جاتی ہے

ہاں جاں کے زیاں کی ہم کو بھی تشویش ہے لیکن کیا کیجےہر رہ جو ادھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے

اب کوچۂ دلبر کا رہ رو رہزن بھی بنے تو بات بنےپہرے سے عدو ٹلتے ہی نہیں اور رات برابر جاتی ہے

ہم اہل قفس تنہا بھی نہیں ہر روز نسیم صبح وطنیادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے

— فیض احمد فیض