5 اشعار

کچھ پہلے ان آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھا

Kuch pehle in aankhon aage kya kya na nazara guzre tha

کچھ پہلے ان آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھا

«کچھ پہلے ان آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھا» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

کچھ پہلے ان آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھاکیا روشن ہو جاتی تھی گلی جب یار ہمارا گزرے تھا

تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھیسب پوچھیں تھے احوال جو کوئی درد کا مارا گزرے تھا

اب کے خزاں ایسی ٹھہری وہ سارے زمانے بھول گئےجب موسم گل ہر پھیرے میں آ آ کے دوبارا گزرے تھا

تھی یاروں کی بہتات تو ہم اغیار سے بھی بیزار نہ تھےجب مل بیٹھے تو دشمن کا بھی ساتھ گوارا گزرے تھا

اب تو ہاتھ سجھائی نہ دیوے لیکن اب سے پہلے توآنکھ اٹھتے ہی ایک نظر میں عالم سارا گزرے تھا

— فیض احمد فیض