5 اشعار

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

Nahin nigah mein manzil to justuju hi sahi

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

«نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہینہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

نہ تن میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میںنماز شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی

کسی طرح تو جمے بزم مے کدے والونہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی

گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دلکسی کے وعدۂ فردا کی گفتگو ہی سہی

دیار غیر میں محرم اگر نہیں کوئیتو فیضؔ ذکر وطن اپنے روبرو ہی سہی

— فیض احمد فیض