6 اشعار

نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں

Naseeb aazmane ke din aa rahe hain

نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں

«نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیںقریب ان کے آنے کے دن آ رہے ہیں

جو دل سے کہا ہے جو دل سے سنا ہےسب ان کو سنانے کے دن آ رہے ہیں

ابھی سے دل و جاں سر راہ رکھ دوکہ لٹنے لٹانے کے دن آ رہے ہیں

ٹپکنے لگی ان نگاہوں سے مستینگاہیں چرانے کے دن آ رہے ہیں

صبا پھر ہمیں پوچھتی پھر رہی ہےچمن کو سجانے کے دن آ رہے ہیں

چلو فیضؔ پھر سے کہیں دل لگائیںسنا ہے ٹھکانے کے دن آ رہے ہیں

— فیض احمد فیض