6 اشعار

پھر حریف بہار ہو بیٹھے

Phir hareem-e-bahar ho baiThe

پھر حریف بہار ہو بیٹھے

«پھر حریف بہار ہو بیٹھے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

پھر حریف بہار ہو بیٹھےجانے کس کس کو آج رو بیٹھے

تھی مگر اتنی رائیگاں بھی نہ تھیآج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے

تیرے در تک پہنچ کے لوٹ آئےعشق کی آبرو ڈبو بیٹھے

ساری دنیا سے دور ہو جائےجو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے

نہ گئی تیری بے رخی نہ گئیہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے

فیضؔ ہوتا رہے جو ہونا ہےشعر لکھتے رہا کرو بیٹھے

— فیض احمد فیض