7 اشعار

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم

Qarz-e-nigah-e-yaar ada kar chuke hain hum

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم

«قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہمسب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم

کچھ امتحان دست جفا کر چکے ہیں ہمکچھ ان کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم

اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہیقاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم

دیکھیں ہے کون کون ضرورت نہیں رہیکوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہیں ہم

اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیںرہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم

ان کی نظر میں کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگجتنا لہو تھا صرف قبا کر چکے ہیں ہم

کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیےسو بار ان کی خو کا گلا کر چکے ہیں ہم

— فیض احمد فیض