5 اشعار

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

Sab Qatl Ho Ke Tere Muqabil Se Aaye Hain

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

«سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیںہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں

شمع نظر خیال کے انجم جگر کے داغجتنے چراغ ہیں تری محفل سے آئے ہیں

اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگرکچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں

ہر اک قدم اجل تھا ہر اک گام زندگیہم گھوم پھر کے کوچۂ قاتل سے آئے ہیں

باد خزاں کا شکر کرو فیضؔ جس کے ہاتھنامے کسی بہار شمائل سے آئے ہیں

— فیض احمد فیض