5 اشعار

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں

Sabhi Kuchh Hai Tera Diya Hua Sabhi Rahtein Sabhi Kulfatein

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں

«سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیںکبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں

یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تری یاد کےکوئی لمحہ صبح وصال کا کوئی شام ہجر کی مدتیں

جو تمہاری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل میں کیانہ کسی عدو کی عداوتیں نہ کسی صنم کی مروتیں

چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم جو بچا ہے مقتل شہر میںیہ مزار اہل صفا کے ہیں یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں

مری جان آج کا غم نہ کر کہ نہ جانے کاتب وقت نےکسی اپنے کل میں بھی بھول کر کہیں لکھ رکھی ہوں مسرتیں

— فیض احمد فیض