5 اشعار

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی

Shaam-e-Firaq Ab Na Poochh Aai Aur Aa Ke Tal Gayi

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی

«شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئیدل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی

بزم خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئیدرد کا چاند بجھ گیا ہجر کی رات ڈھل گئی

جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھیجب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی

دل سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہمکہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی

آخر شب کے ہم سفر فیضؔ نہ جانے کیا ہوئےرہ گئی کس جگہ صبا صبح کدھر نکل گئی

— فیض احمد فیض