5 اشعار

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے

Tere Gham Ko Jaan Ki Talash Thi Tere Jaan Nisar Chale Gaye

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے

«ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئےتری رہ میں کرتے تھے سر طلب سر رہ گزار چلے گئے

تری کج ادائی سے ہار کے شب انتظار چلی گئیمرے ضبط حال سے روٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے

نہ سوال وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیںترے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے

یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سر رہ سیاہی لکھی گئییہی داغ تھے جو سجا کے ہم سر بزم یار چلے گئے

نہ رہا جنون رخ وفا یہ رسن یہ دار کرو گے کیاجنہیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے

— فیض احمد فیض