5 اشعار

تری امید ترا انتظار جب سے ہے

Teri Ummeed Tera Intizar Jab Se Hai

تری امید ترا انتظار جب سے ہے

«تری امید ترا انتظار جب سے ہے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

تری امید ترا انتظار جب سے ہےنہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے

کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقمگلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے

ہوا ہے جب سے دل ناصبور بے قابوکلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے

اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلےطرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے

کہاں گئے شب فرقت کے جاگنے والےستارۂ سحری ہم کلام کب سے ہے

— فیض احمد فیض