6 اشعار

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے

Tum Aaye Ho Na Shab-e-Intizar Guzri Hai

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے

«تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہےتلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے

جنوں میں جتنی بھی گزری بکار گزری ہےاگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے

ہوئی ہے حضرت ناصح سے گفتگو جس شبوہ شب ضرور سر کوئے یار گزری ہے

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھاوہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے

نہ گل کھلے ہیں نہ ان سے ملے نہ مے پی ہےعجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے

چمن پہ غارت گلچیں سے جانے کیا گزریقفس سے آج صبا بے قرار گزری ہے

— فیض احمد فیض