بیٹھا ہے میرے سامنے وہ
کلام: فہمیدہ ریاض
بیٹھا ہے میرے سامنے وہجانے کسی سوچ میں پڑا ہے
اچھی آنکھیں ملی ہیں اس کووحشت کرنا بھی آ گیا ہے
یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض
مہمان شاعر: فہمیدہ ریاض
بیٹھا ہے میرے سامنے وہجانے کسی سوچ میں پڑا ہے
اچھی آنکھیں ملی ہیں اس کووحشت کرنا بھی آ گیا ہے
دنیا کی لمبی راہوں پر ہم یوں تو چلتے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو یاد ہمیشہ آتے ہیں
وہ راہ بدلتے ہیں اپنی اور مڑ کر ہاتھ ہلاتے ہیںلیکن وہ دلوں کو یادوں کی خوشبو بن کر مہکاتے ہیں