11 اشعار

چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں

Chaar su hai badi wehshat ka samaan

چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں

«چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

چار سو ہے بڑی وحشت کا سماںکسی آسیب کا سایہ ہے یہاں

کوئی آواز سی ہے مرثیہ خواںشہر کا شہر بنا گورستاں

ایک مخلوق جو بستی ہے یہاںجس پہ انساں کا گزرتا ہے گماں

خود تو ساکت ہے مثال تصویرجنبش غیر سے ہے رقص کناں

کوئی چہرہ نہیں جز زیر نقابنہ کوئی جسم ہے جز بے دل و جاں

علما ہیں دشمن فہم و تحقیقکودنی شیوۂ دانش منداں

شاعر قوم پہ بن آئی ہےکذب کیسے ہو تصوف میں نہاں

لب ہیں مصروف قصیدہ گوئیاور آنکھوں میں ہے ذلت عریاں

سبز خط عاقبت و دیں کے اسیرپارسا خوش تن و نو خیز جواں

یہ زن نغمہ گر و عشق شعاریاس و حسرت سے ہوئی ہے حیراں

کس سے اب آرزوئے وصل کریںاس خرابے میں کوئی مرد کہاں

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں