10 اشعار

پتھر کی زبان

Patthar ki zuban

پتھر کی زبان

«پتھر کی زبان» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے عباس نقوی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھایہی بلندی ہے وصل تیرا

یہی ہے پتھر مری وفا کااجاڑ چٹیل اداس ویراں

مگر میں صدیوں سے، اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوںپھٹی ہوئی اوڑھنی میں سانسیں تری سمیٹے

ہوا کے وحشی بہاؤ پر اڑ رہا ہے دامنسنبھالا لیتی ہوں پتھروں کو گلے لگا کر

نکیلے پتھرجو وقت کے ساتھ میرے سینے میں اتنے گہرے اتر گئے ہیں

کہ میرے جیتے لہو سے سب آس پاس رنگین ہو گیا ہےمگر میں صدیوں سے اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں

اور ایک اونچی اڑان والے پرند کے ہاتھتجھ کو پیغام بھیجتی ہوں

تو آ کے دیکھےتو کتنا خوش ہو

کہ سنگریزے تمام یاقوت بن گئے ہیںدمک رہے ہیں

گلاب پتھر سے اگ رہا ہے

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں