چار سو ہے بڑی وحشت کا سماں
کلام: فہمیدہ ریاض
چار سو ہے بڑی وحشت کا سماںکسی آسیب کا سایہ ہے یہاں
کوئی آواز سی ہے مرثیہ خواںشہر کا شہر بنا گورستاں
یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض
مہمان شاعر: فہمیدہ ریاض
چار سو ہے بڑی وحشت کا سماںکسی آسیب کا سایہ ہے یہاں
کوئی آواز سی ہے مرثیہ خواںشہر کا شہر بنا گورستاں
دنیا کی لمبی راہوں پر ہم یوں تو چلتے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو یاد ہمیشہ آتے ہیں
وہ راہ بدلتے ہیں اپنی اور مڑ کر ہاتھ ہلاتے ہیںلیکن وہ دلوں کو یادوں کی خوشبو بن کر مہکاتے ہیں