11 اشعار

کچھ لوگ

Kuchh Log

کچھ لوگ

«کچھ لوگ» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 3 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

دنیا کی لمبی راہوں پر ہم یوں تو چلتے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو یاد ہمیشہ آتے ہیں

وہ راہ بدلتے ہیں اپنی اور مڑ کر ہاتھ ہلاتے ہیںلیکن وہ دلوں کو یادوں کی خوشبو بن کر مہکاتے ہیں

ایسے ہی سفر کرتے کرتے اک شخص ملا ہم کو بھی کہیںدنیا میں اچھے لوگ بہت لیکن اس کی سی بات نہیں

وہ دھیمے لہجے والا تھا اور دھیرے سے ہنستا تھاجتنے بھی لوگ ملے ہم کو سچ جانو سب سے اچھا تھا

تھی لاگ نہ اس کے بولوں میں کی بات نہ کوئی لگاوٹ کیاس کے فقرے ٹوٹے ٹوٹے اس کی آنکھیں کھوئی کھوئی

کہہ کر ہی نہ دے جو ہم چاہیں سوچا ہی کرے بیٹھا بیٹھاپر دیکھے ایسی نرمی سے اک بار تو ہو جائے دھوکا

گو ساتھ ہمارا خوب رہا اس کو نہ ہوئی پہچان بہتگر بوجھ لے دل کی بات کبھی ہو جاتا تھا حیران بہت

اور ہم اس کی حیرانی پر شرمندہ ہو کر رہ جاتےکچھ اور ہمارا مطلب تھا پھر دیر تلک یہ سمجھاتے

اب چہرہ اس کا اجلا ہو یا آنکھیں اس کی ہوں گہرییا اس کے پیارے ہونٹوں کی ہر بات لگے ٹھہریःٹھہری

کچھ اچھے لوگ جو اچھے ہوتے ہیں اور راہوں میں مل جاتے ہیںہیں ان کو اپنے کام بہت کب اپنا وقت گنواتے ہیں

کب پیاسے پیاسے رہتے ہیں کب جی کو روگ لگاتے ہیں

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں