13 اشعار

اس گلی کے موڑ پر

Us Gali Ke Mod Par

اس گلی کے موڑ پر

«اس گلی کے موڑ پر» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نےمیرے اشک پونچھ کر

آج مجھ سے یہ کہایوں نہ دل جلاؤ تم

لوٹ مار کا ہے راججل رہا ہے کل سماج

یہ فضول راگنیمجھ کو مت سناؤ تم

بورژوا سماج ہےلوٹ مار چوریاں اس کا وصف خاص ہے

اس کو مت بھلاؤ تمانقلاب آئے گا

اس سے لو لگاؤ تمہو سکے تو آج کل مال کچھ بناؤ تم

کھائی سے نکلنے کی آرزو سے پیشتردیکھ لو ذرا جو ہے دوسری طرف ہے گڑھا ہے

آج ہیں جو حکمراں ان سے بڑھ کے خوفناک ان کے سب رقیب ہیںدندنا رہے ہیں جو لے کے ہاتھ میں چھرا

شکر کا مقام ہےمیری مسخ لاش آپ کو کہیں ملی نہیں

اک گلی کے موڑ پرمیں نے پوچھا واقعی

سن کے مسکرا دیا کتنی دیر ہو گئیلیجئے میں اب چلا اس کے بعد اب کیا ہوا

کھڑکھڑائیں ہڈیاںاس گلی کے موڑ سے وہ کہیں چلا گیا

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں