10 اشعار

یہ زرد موسم کے خشک پتے

Yeh Zard Mausam Ke Khushk Patte

یہ زرد موسم کے خشک پتے

«یہ زرد موسم کے خشک پتے» فہمیدہ ریاض کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

یہ زرد موسم کے خشک پتےہوا جنہیں لے گئی اڑا کر

اگر کبھی ان کو دیکھ پاؤتو سوچ لینا

کہ ان میں ہر برگ کی نمو میںزیاں گیا عرق شاخ گل کا

کبھی یہ سرسبز کونپلیں تھےکبھی یہ شاداب بھی رہے ہیں

کھلے ہوئے ہونٹ کی طرح نرم اور شگفتہبہت دنوں تک

یہ سبز پتےہوا کے ریلوں میں بے بسی سے تڑپ چکے ہیں

مگر یہ اب خشک ہو رہے ہیںمگر یہ اب خشک ہو چکے ہیں

اگر کبھی اس طرف سے گزروتو دیکھ لینا

برہنہ شاخیں ہوا کے دل میں گڑھی ہوئی ہیںیہ اب تمہارے لیے نہیں ہیں

نہیں ہیں

— فہمیدہ ریاض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں