یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
کلام: فہمیدہ ریاض
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایاجو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا
تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکلترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا
یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض
مہمان شاعر: فہمیدہ ریاض
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایاجو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا
تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکلترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا
اس کو اک دن تو جانا تھامجھ سے کیا رشتہ کیا ناتا
بس پل دو پل کو ٹھہرا تھاپل دو پل ہنستے گزرا تھا