وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں
کلام: حبیب جالب
وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میںحقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں
جو بیٹھا ہے صف ماتم بچھائے مرگ ظلمت پروہ نوحہ گر ہے خطرے میں وہ دانشور ہے خطرے میں
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)
مہمان شاعر: حبیب جالب
وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میںحقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں
جو بیٹھا ہے صف ماتم بچھائے مرگ ظلمت پروہ نوحہ گر ہے خطرے میں وہ دانشور ہے خطرے میں
پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چلشاید ملے غزل کا پتا اس گلی میں چل
کب سے نہیں ہوا ہے کوئی شعر کام کایہ شعر کی نہیں ہے فضا اس گلی میں چل