تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
کلام: حبیب جالب
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھااس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤوہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)
مہمان شاعر: حبیب جالب
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھااس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤوہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا لاڑکانے چلوورنہ تھانے چلو
اپنے ہونٹوں کی خوشبو لٹانے چلو گیت گانے چلوورنہ تھانے چلو