6 اشعار

اٹھا رہا ہے جو فتنا میری زمینوں میں

Utha Raha Hai Jo Fitna Meri Zameenon Mein

اٹھا رہا ہے جو فتنا میری زمینوں میں

«اٹھا رہا ہے جو فتنا میری زمینوں میں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

اٹھا رہا ہے جو فتنا میری زمینوں میںوہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں

کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہوگاجو پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے، سینوں میں

کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کیریا کی جنگ ہے بس حاشیہ نشینوں میں

قصور وار سمجھتا نہیں کوئی خود کوچھڑی ہوئی ہے لڑائی منافقینوں میں

یہ لوگ اس کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیںکہ اقتدار رہے اُن کے جانشینوں میں

یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کے لیےکھڑے رہو گے کہاں تک تماش بینوں میں

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں