7 اشعار

اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا

Ik saamp mujh ko choom ke tiryaq de gaya

اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا

«اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیالیکن وہ اپنے ساتھ مرا زہر لے گیا

اکثر بدن کی قید سے آزاد ہو کے بھیاپنا ہی عکس دور سے میں دیکھنے گیا

دنیا کا ہر لباس پہننا پڑا اسےاک شخص جب نکل کے مرے جسم سے گیا

ایسی جگہ کہ موت بھی ڈر جائے دیکھ کرمیں خود کو زندگی سے بہت دور لے گیا

محسوس ہو رہا ہے کہ میں خود سفر میں ہوںجس دن سے ریل پر میں تجھے چھوڑنے گیا

کتنی سبک سی آج مرے گھر کی شام تھیمیں فائلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے گیا

اشعار کا نزول ہے خالی دماغ میںاے کیفؔ تو نہ جانے کہاں چھوڑنے گیا

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں