10 اشعار

روز مرغا بنا کرے کوئی

Roz murgha bana kare koi

روز مرغا بنا کرے کوئی

«روز مرغا بنا کرے کوئی» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 57 سیکنڈ ہے۔

روز مرغا بنا کرے کوئیکب تک آخر پٹا کرے کوئی

جب کہیں نوکری نہیں ملتیڈگریاں لے کے کیا کرے کوئی

مجھ کو ریڈنگ سے سخت نفرت ہےمیں سنوں اور پڑھا کرے کوئی

جس میں آتی ہو بو تعصب کیایسی تاریخ کیا کرے کوئی

جن میں جنگ و جدل کے قصے ہوںوہ کتب کیوں پڑھا کرے کوئی

غیر ملکی زبان انگلش کوخوا مخواہ کیوں رٹا کرے کوئی

نہیں امید کامیابی جبامتحاں دے کے کیا کرے کوئی

خوب انصاف ہے کہ درجے میںمیں پٹوں اور خطا کرے کوئی

کب تک آخر بغیر سمجھے ہوئےفارمولے رٹا کرے کوئی

کیفؔ آتا نہیں جواب خداخط کہاں تک لکھا کرے کوئی

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں