5 اشعار

ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں

Hum ek dhalti hui dhoop ke ta'aqub mein

ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں

«ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میںہیں تیز گام سائے سائے جاتے ہیں

چمن میں شدت درد نمود سے غنچےتڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں

میں وہ خزاں کا برہنہ بدن شجر ہوں جسےلباس زخم بہاراں پہنائے جاتے ہیں

شفق کی جھیل میں جب بھی ہے ڈوبتا سورجتو پاس دھوپ ہی جاتی نہ سائے جاتے ہیں

یہ زندگی وہ تڑپتی غزل ہے کیفؔ جسےہر ایک ساز حوادث پہ گائے جاتے ہیں

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں