7 اشعار

سرد جذبے بجھے بجھے چہرے

Sard jazbe bujhe bujhe chehre

سرد جذبے بجھے بجھے چہرے

«سرد جذبے بجھے بجھے چہرے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

سرد جذبے بجھے بجھے چہرےجسم زندہ ہیں مر گئے چہرے

آج کے دور کی علامت ہیںفلسفی ذہن سوچتے چہرے

سیل غم سے بھی صاف ہو نہ سکےگرد آلود ملگجے چہرے

یخ زدہ سوچ کے دریچوں میںکس نے دیکھے ہیں کانپتے چہرے

اک برس بھی ابھی نہیں گزراکتنی جلدی بدل گئے چہرے

میں نے اکثر خود اپنے چہرے پردوسروں کے سجا لئے چہرے

وہ تو نکلے بہت ہی بد صورتکیفؔ دیکھے تھے جو سجے چہرے

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں