6 اشعار

مری مستی کے افسانے رہیں گے

Meri masti ke afsane rahenge

مری مستی کے افسانے رہیں گے

«مری مستی کے افسانے رہیں گے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

مری مستی کے افسانے رہیں گےجہاں گردش میں پیمانے رہیں گے

نکالے جائیں گے اہل محبتاب اس محفل میں بیگانے رہیں گے

یہی انداز مے نوشی رہے گاتو یہ شیشے نہ پیمانے رہیں گے

رہے گا سلسلہ دار و رسن کاجہاں دو چار دیوانے رہیں گے

جنہیں گلشن میں ٹھکرایا گیا ہےانہی پھولوں کے افسانے رہیں گے

خرد زنجیر پہناتی رہے گیجو دیوانے ہیں دیوانے رہیں گے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں