5 اشعار

کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے

Kuchh haal na poochho 'Ajiz ka kambakht ajab deewāna hai

کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے

«کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہےہنستا ہے تو ہنستے رہتا ہے روتا ہے تو روتے جاتا ہے

نغموں کی ہر اک جا شہرت ہے نالوں کا تمام افسانہ ہےجس باغ میں ہم جا پہنچے ہیں پھولوں نے ہمیں پہچانا ہے

سنتے ہیں وفا کے رستے میں منزل نہ مسافر خانہ ہے؟کیا جانے کہاں تک پہنچے ہیں کیا جانے کہاں تک جانا ہے

زنجیر جنوں کا تحفہ ہے، زنجیر سے کیا گبھرانا ہےہم ہاتھ بڑھائے بیٹھے ہیں پہنا دے جسے پہنانا ہے

پہلو میں ہمارے کیسا دل پر تو قیامت بیت گئیمرجھایا ہوا اک غنچہ ہے ٹوٹا ہوا اک پیمانہ ہے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں