میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو
کلام: کلیم عاجز
میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہومجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو
دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہووہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو
شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)
مہمان شاعر: کلیم عاجز
میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہومجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو
دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہووہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو