6 اشعار

خالی شراب عشق سے ساغر کبھی نہ تھے

Khali sharab-e-ishq se saghar kabhi na thhe

خالی شراب عشق سے ساغر کبھی نہ تھےایسے تو خشک دل کے سمندر کبھی نہ تھے

جو سنگ احتساب یگانوں کے پاس ہیںدشمن کے ہاتھ میں بھی وہ پتھر کبھی نہ تھے

کس سمت جا رہے ہیں انہیں خود پتا نہیںیوں بے خبر تو راہ سے رہبر کبھی نہ تھے

دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا زخمی ہے روح بھیاتنے تو تیز وقت کے نشتر کبھی نہ تھے

ملتا نہیں کہیں بھی در و بام کا نشاںہم گھر میں رہ کے اتنے تو بے گھر کبھی نہ تھے

کیا جانیں کیا ہوئیں وہ حسیں شوخیاں حیاتؔایسے نڈھال پھول سے پیکر کبھی نہ تھے

— مسعودہ حیات