9 اشعار

اگرچہ کہنے کو کل کائنات اپنی تھی

Agarche kehne ko kul-e-kaenat apni thi

اگرچہ کہنے کو کل کائنات اپنی تھیحقیقتاً کہاں اپنی بھی ذات اپنی تھی

کہیں تو کس سے کہیں ہم حیات اپنی تھینہ کوئی دن تھا ہمارا نہ رات اپنی تھی

کوئی بھی آج تو اپنا نظر نہیں آتاجو تم تھے اپنے تو کل کائنات اپنی تھی

یہ کیا کہ آج کوئی نام تک نہیں لیتاوہ دن بھی تھے کہ ہر اک لب پہ بات اپنی تھی

ہمارے پاس رہا کیا ہے اب غموں کے سواوہ دن گئے کہ رہ شش جہات اپنی تھی

ہمیں سے بھول کہیں ہو گئی محبت میںوگرنہ وہ نگہ التفات اپنی تھی

جو تم قریب تھے ہر شے پہ اختیار سا تھایہ چاند اور ستاروں کی رات اپنی تھی

ہمیں خود اپنی خرد کا غرور لے ڈوبانہیں تو ایک زمانے میں بات اپنی تھی

حیاتؔ اس لیے نظم کہن کو توڑ دیاکہ آج صرف اسی میں نجات اپنی تھی

— مسعودہ حیات