5 اشعار

فصل گل کچھ بھی نہیں باد صبا کچھ بھی نہیں

Fasl-e-gul kuch bhi nahin baad-e-saba kuch bhi nahin

فصل گل کچھ بھی نہیں باد صبا کچھ بھی نہیںتیری محفل ہو تو جنت کی فضا کچھ بھی نہیں

جان و دل کر دیے ہم نے تری راہوں میں نثاراور ہمارے لیے تہمت کے سوا کچھ بھی نہیں

پکڑے جائیں گے ہمیں حشر میں بے جرم و قصوراور گنہ گار کو دنیا میں سزا کچھ بھی نہیں

ان کے دل پر مرا احساس ستم بھی ہے گراںغیر کی شعلہ بیانی کا گلا کچھ بھی نہیں

جام جم ہو کہیں گردش میں مگر پھر بھی حیاتؔچشم ساقی سے نہ چھلکے تو مزا کچھ بھی نہیں

— مسعودہ حیات