15 اشعار

انمول رتن

Anmol Ratan

بھارت کا انمول رتن تھے مولانا آزادسچے ایک محب وطن تھے مولانا آزاد

بوئے گل نو رنگ چمن تھے مولانا آزادان کے ہی ایثار و عمل سے دیس ہوا آباد

بھارت کا انمول رتن تھے مولانا آزادآزادی کا خواب دکھایا اپنے اخباروں سے

بیداری کا پاٹھ پڑھایا اپنے اخباروں سےقوم کا اپنی عزم بڑھایا اپنے اخباروں سے

ان کے ہی ایثار و عمل سے دیس ہوا آبادبھارت کا انمول رتن تھے مولانا آزاد

قید و بند میں رہ کر بھی لکھیں کتنی تحریریںایک ہوئے سب ہندو مسلم ایسی کیں تقریریں

دیس ہوا آزاد ہمارا سوچیں وہ تدبیریںان کے ہی ایثار و عمل سے دیس ہوا آباد

بھارت کا انمول رتن تھے مولانا آزاددوراندیشی ایسی جس کا کوئی نہیں تھا ثانی

حق گوئی تھی ایسی ان کی بات ہر اک نے مانیان کے عزم کے آگے ہو گئے دشمن پانی پانی

ان کے ہی ایثار و عمل سے دیس ہوا آبادبھارت کا انمول رتن تھے مولانا آزاد

ایک مفکر ایک مدبر ایک سیاست داں بھیملک و قوم کی خاطر دینے کو تیار تھے جاں بھی

کیا دنیا میں پیدا ہوگا پھر ایسا انساں بھیان کے ہی ایثار و عمل سے دیس ہوا آباد

بھارت کا انمول رتن تھے مولانا آزاددل کو روشن کر دیتی ہے تفسیر قرآن

انسانوں سے الفت کرنا تھا ان کا ایمانسب کچھ لکھ کر بھی باقی تھا لکھنے کا ارمان

ان کے ہی ایثار و عمل سے دیس ہوا آبادبھارت کا انمول رتن تھے مولانا آزاد

— مسعودہ حیات