9 اشعار

بھارت کا نشان

Bhaarat ka Nishaan

آؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادیدیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادی

پورب میں پھر لہرا اٹھا امن و اماں کا پرچمبرگ گل پر ناچ رہی ہے موتی جیسی شبنم

ندیوں نے پھر چھیڑ دیا ہے آزادی کا سرگمآؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادی

دیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادیآزادی کی خاطر دی ہے ہم سب نے قربانی

ابوالکلام اور نہرو جیسے نیتا تھے لا ثانیان کے عزم کے آگے ہو گئے دشمن پانی پانی

آؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادیدیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادی

ماضی کے غم آج بھلا کر مستقبل چمکائیںآپس کے سب بھید مٹا کر پیار کے نغمے گائیں

گنگ و جمن کی اس دھرتی کو پھولوں سے مہکائیںآؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادی

دیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادی

— مسعودہ حیات