10 اشعار

دیوالی

Diwali

آئی دوالی آئی دوالی گیت خوشی کے گاؤاندھیارے کو دور کرو تم گھر گھر دیپ جلاؤ

سیتا رام کی راہوں کو اب پھولوں سے مہکاؤچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رام

آج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نامبازاروں میں لگا ہوا ہے دیوالی کا میلہ

کوئی خریدے برتن بھانڈے کوئی شال دوشالاکوئی خریدے آتش بازی کوئی گلوں کی مالا

چودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نام

دلہن کی مانند سجے ہیں مندر اور شوالےپوجا کا سامان سجائے آئے ہیں متوالے

دیا دھرم کا دان کریں گے آج یہاں دل والےچودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رام

آج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نامہر مذہب ہر دھرم کے بندے گلے ملن کو آئیں

ذات پات کے مت بھیدوں کو دل سے آج مٹائیںایک ہیں سارے بھارت واسی دنیا کو دکھلائیں

چودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رامآج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نام

— مسعودہ حیات