7 اشعار

دل و نگاہ میں اک روشنی سی لگتی ہے

Dil-o-nigah mein ek roshni si lagti hai

دل و نگاہ میں اک روشنی سی لگتی ہےتمہاری یاد سے وابستگی سی لگتی ہے

یہ کیا ستم ہے مہکتی ہوئی بہاروں میںہر ایک چہرے پہ پژمردگی سی لگتی ہے

یہ کس کے ہاتھ میں آیا ہے دور پیمانہلبوں پہ اپنے بڑی تشنگی سی لگتی ہے

ہم اپنے گھر میں بھی ہیں اب مسافروں کی طرحہر ایک چیز یہاں اجنبی سی لگتی ہے

ہر ایک سانس پہ پہرہ ہے ناخداؤں کایہ زندگی بھی کوئی زندگی سی لگتی ہے

ہزار شوق نمایاں تھے جس نظر سے کبھیوہی نگاہ بڑی اجنبی سی لگتی ہے

حیاتؔ کون سی اب راہ اختیار کریںہر ایک راہ بڑی اجنبی سی لگتی ہے

— مسعودہ حیات