6 اشعار

گھر سے جو شخص بھی نکلے وہ سنبھل کر نکلے

Ghar se jo shakhs bhi nikle woh sambhal kar nikle

گھر سے جو شخص بھی نکلے وہ سنبھل کر نکلےجانے کس موڑ پہ کس ہاتھ میں خنجر نکلے

معجزہ بن گئی کیا آج مری تشنہ لبیایک قطرے کے تلے کتنے سمندر نکلے

گر گیا ہو جو فصیلوں کو اٹھا کر خود ہیکیسے اب اپنے حصاروں سے وہ باہر نکلے

رہبرو تم نے تو منزل کا پتا بھی نہ دیاتم سے بہتر تو مری راہ کے پتھر نکلے

عمر بھر ذہن میں چبھتا رہا اک نشتر غمجتنے احساس تھے سب میرا مقدر نکلے

تم سے چھوڑی نہ گئی راہ وفا پھر بھی حیاتؔکتنے بے درد ملے کتنے ستم گر نکلے

— مسعودہ حیات