9 اشعار

یہ جو رنگین تبسم کی ادا ہے مجھ میں

Ye jo rangeen tabassum ki ada hai mujh mein

یہ جو رنگین تبسم کی ادا ہے مجھ میںمجھ کو لگتا ہے کوئی میرے سوا ہے مجھ میں

خود بھی حیراں ہوں ازل سے کہ یہ کیا ہے مجھ میںکون شہ رگ سے مری بول رہا ہے مجھ میں

عمر بھر جس کو ترے غم کی امانت سمجھااب وہی تار نفس ٹوٹ گیا ہے مجھ میں

ایک خوشبو سی ابھرتی ہے نفس سے میرےہو نہ ہو آج کوئی آن بسا ہے مجھ میں

میرے قدموں پہ زمانے کی جبیں جھک جائےدیوتاؤں کی طرح ایک انا ہے مجھ میں

تم تو کن کہہ کے نگاہوں سے چھپے ہو لیکنہر گھڑی ایک نیا حشر بپا ہے مجھ میں

کون تھا جو مرے احساس کو روشن کرتاعمر بھر صرف مرا دل ہی جلا ہے مجھ میں

دل کبھی ظلمت فردا سے ہراساں نہ ہواایک خورشید نیا روز اگا ہے مجھ میں

تلخ کامی سے تو کچھ اور نکھرتی ہے حیاتؔکس لیے زہر کوئی گھول رہا ہے مجھ میں

— مسعودہ حیات