13 اشعار

پندرہ اگست

Pandrah August

اہنسا کی شمشیر چمکی اسی دنغلامی کی زنجیر ٹوٹی اسی دن

گلستاں کی تقدیر بدلی اسی دناٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں

چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیںکھلے کیسے کیسے بھرم دشمنوں کے

رہے پھر نہ باقی ستم دشمنوں کےمٹے اس زمیں سے قدم دشمنوں کے

اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں

اسی دن کی خاطر بڑے غم اٹھائےزمیں آسماں کے قلابے ملائے

ذرا بھی نہ اپنے قدم ڈگمگائےاٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں

چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیںیہ وہ دن ہے ہم جس کی برکت کو سمجھیں

یہی دن ہے وہ جس کی قیمت کو سمجھیںیہی دن ہے وہ جس کی عظمت کو سمجھیں

اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں

ترنگے کو ہم اور اونچا اٹھا دیںچراغوں سے ہر بام و در کو سجا دیں

زمانے کو یہ سر خوشی بھی دکھا دیںاٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں

چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں

— مسعودہ حیات