8 اشعار

جشن آزادی

Jashn-e-Azadi

جشن آزادیٔ جمہور منائیں لوگوگوشے گوشے میں مساوات کا چرچا کر دیں

کوئی بھوکا نہ رہے کوئی بھی ننگا نہ رہےآج ہر فرد کی انعام سے جھولی بھر دیں

اپنے کردار کو اس طرح نکھاریں ہم لوگدشمن جاں بھی نگاہیں نہ اٹھانے پائے

امن کے پھول سے راہوں کو سجا دیں اتنازخم کانٹوں کا کوئی پاؤں نہ کھانے پائے

بغض و نفرت کا اندھیرا نہ رہے دھرتی پرہم محبت کے چراغوں سے چراغاں کر دیں

عدل و انصاف کی کرنوں کو فروزاں کر کےحق پرستی کو زمانے پہ نمایاں کر دیں

ہم اگر اپنے مسائل کا کوئی حل ڈھونڈیںکتنے الجھے ہوئے ذہنوں کو سکوں مل جائے

عزم و ہمت سے اگر کام لے ذہن جمہوردہر کے شعلہ مزاجوں کا جہاں ہل جائے

— مسعودہ حیات