6 اشعار

کیا کہیں محفل سے تیری کیا اٹھا کر لے گئے

Kya kahin mahfil se teri kya utha kar le gaye

کیا کہیں محفل سے تیری کیا اٹھا کر لے گئےہم متاع درد کو تنہا اٹھا کر لے گئے

دھوپ کا صحرا نظر آتا ہے اب چاروں طرفآپ تو ہر پیڑ کا سایا اٹھا کر لے گئے

اب وہی ذرے ہمارے حال پر ہیں خندہ زنآسماں تک جن کو ہم اونچا اٹھا کر لے گئے

کیا غرض ہم کو وہاں اب کوئی بھی آباد ہوہم تو اس بستی سے گھر اپنا اٹھا کر لے گئے

وہ تو مجنوں تھا رہا جو عمر بھر صحرا نوردہم جہاں پہنچے وہیں صحرا اٹھا کر لے گئے

کر نہ پائے راہ بر بھی رہنمائی جب حیاتؔہم بھی حیرانی میں نقش پا اٹھا کر لے گئے

— مسعودہ حیات