5 اشعار

اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا

Apna to yeh kaam hai bhai dil ka khoon bahate rehna

اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا

«اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا» منیرنیازی کا کلام ہے، جسے زین چوہدری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہناجاگ جاگ کر ان راتوں میں شعر کی آگ جلاتے رہنا

اپنے گھروں سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگوکبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا

رات کے دشت میں پھول کھلے ہیں بھولی بسری یادوں کےغم کی تیز شراب سے ان کے تیکھے نقش مٹاتے رہنا

خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیںجب تک دن کا سورج آئے اس کا کھوج لگاتے رہنا

تم بھی منیرؔ اب ان گلیوں سے اپنے آپ کو دور ہی رکھنااچھا ہے جھوٹے لوگوں سے اپنا آپ بچاتے رہنا

— منیرنیازی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں