جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں
کلام: پروین شاکر
جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیںآئنہ خانے کی حیرت سے تجھے دیکھتے ہیں
وہ جو پامال زمانہ ہیں مرے تخت نشیںدیکھ تو کیسی محبت سے تجھے دیکھتے ہیں
کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)
مہمان شاعر: پروین شاکر
جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیںآئنہ خانے کی حیرت سے تجھے دیکھتے ہیں
وہ جو پامال زمانہ ہیں مرے تخت نشیںدیکھ تو کیسی محبت سے تجھے دیکھتے ہیں
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی
اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہناجاگ جاگ کر ان راتوں میں شعر کی آگ جلاتے رہنا
اپنے گھروں سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگوکبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا