8 اشعار

سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے

Seene Mein Khizaan Aankhon Mein Barsaat Rahi Hai

سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے

«سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہےاس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے

کس طرح خود اپنے کو یقیں آئے کہ اس سےہم خاک نشینوں کی ملاقات رہی ہے

صوفی کا خدا اور تھا شاعر کا خدا اورتم ساتھ رہے ہو تو کرامات رہی ہے

اتنا تو سمجھ روز کے بڑھتے ہوئے فتنےہم کچھ نہیں بولے تو تری بات رہی ہے

ہم میں تو یہ حیرانی و شوریدگئ عشقبچپن ہی سے منجملۂ عادات رہی ہے

اس سے بھی تو کچھ ربط جھلکتا ہے کہ وہ آنکھبس ہم پہ عنایات میں محتاط رہی ہے

الزام کسے دیں کہ ترے پیار میں ہم پرجو کچھ بھی رہی حسب روایات رہی ہے

کچھ میرؔ کے حالات سے حاصل کرو عبرتلے دے کے اب اک عزت سادات رہی ہے

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں