آخری بار ملو
کلام: مصطفی زیدی
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں
چاک وعدہ نہ سلے زخم تمنا نہ کھلےسانس ہموار رہے شمع کی لو تک نہ ہلے
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)
مہمان شاعر: مصطفی زیدی
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں
چاک وعدہ نہ سلے زخم تمنا نہ کھلےسانس ہموار رہے شمع کی لو تک نہ ہلے
اُس کی بے باکیوں میں غصّہ تھااس کے غصّے میں پیار تھا ساتھی
آج اس نوبہار کے رُخ پرکس غضب کا نکھار تھا ساتھی